FROM MY BOOK OF LIFE.
دوستو: زندگی ایک کتاب کی طرح ہے ۔ جب تک سانسیں چل رہی ہیں تب تک یہ کتاب کھلی ہوئی ہے مگر جس دن جس لمحے سانس رُکے گی تو زندگی کی یہ کتاب ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے خود ہی بند ہو جائے گی۔زندگی کی اس کتاب میں وقت کا کردار قلم کی مانند ہے۔ یعنی وقت ایک پین کی طرح ہر لمحہ ہر ساعت اس کتاب میں تحریر کررہا ہے۔
زندگی کی اس کتاب میں بہت سے خوشگوار لمحات درج ہیں، اگر ان لمحات کو جمع کیا جائے تو کچھ مختصر کہانیاں بنیں گی تو کچھ طویل افسانے بن جائیں گے
دراصل زندگی میرے نزدیک واقعات کا ایک مجموعہ ہے، اس میں کچھ واقعات خوشگوار ہوتے ہیں اور یہ واقعات جب کبھی یاد آتے ہیں تو ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں۔ اور کچھ واقعات تکلیف دہ اورکچھ انتہائی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔اس میں سے کچھ واقعات تو ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ذہن کی وادیوں میں کہیں گم ہوجاتے ہیں ایسے واقعات جو ہمارے ذہن کی وادیوں میں کھو جاتے ہیں وہ خوشگوار بھی ہوسکتے ہیں اور تکلیف دہ بھی ہوسکتے ہیں مگر ان کی نوعیت معمولی ہوتی ہے اور ایسے واقعات فراموش ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اس سے ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور نہ ہی ہماری ذات پر ان واقعات کا کوئی دیرپا اثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ریت پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح ذہن سے صاف ہوجاتے ہیں۔ لیکن کچھ واقعات جی ہاں کچھ واقعات ہماری زندگی کا دھارا موڑ دیتے ہیں اس میں بھی کچھ واقعات بہت خوشگوار ہوتے ہیں اور کچھ بہت تکلیف دہ بہت ہی دردناک اور اپنی خاص نوعیت کی وجہ سے یہ ہمیشہ ہمارے ذہن کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں۔
میری کتابِ زندگی بھی کچھ ایسے ہی واقعات کا مجموعہ ہے یعنی کچھ بہت خوشگوار اور کچھ بہت تکلیف دہ واقعات۔ میں آپ کے ساتھ دو ایسے واقعات شیئر کروں گا کہ جن کی وجہ سے میری زندگی کو نیا موڑ ملا تھا۔اس میں سے ایک واقعہ،یا پھر سانحہ ہاں سانحہ کہنا مناسب ہوگا کیوں کہ اُس کی وجہ سے میرا ہنستا کھیلتا گھر ماتم کدہ بن گیا تھا۔
اور میری زندگی کا ایک دوسرا واقعہ ایسا تھا جس میں ان دونوں کیفیتوں کا یعنی درد اور خوشی کا میں ایک ہی وقت میں سامنا کر رہا تھا اور یہ دونوں کیفیتں اپنی انتہا پر تھیں یعنی میری تکلیف بھی اپنی انتہا پر تھی اور میری خوشی بھی عروج پر تھی لیکن اگر میں سچ کہوں تو میری تکلیف میری خوشی پر غالب تھی۔
میری زندگی کا یہ وہ دوسرا واقعہ تھا جہاں سے میری زندگی نے پھر سے ایک نیا موڑ لیا تھا اور مجھے اندازہ تھا کہ میرا آگے کا سفر آسان نہیں ۔ میں اپنے تصورات میں اپنی نئی زندگی کے سفر کہ وہ مقامات دیکھ رہا تھا جہاں کچھ نئی تکلیفیں کچھ نئے درد کسی بے رحم دشمن کی طرح میرے منتظر تھے اور میری بے بسی کا یہ عالم تھا کہ چاہنے کے باوجود میرے لیئے یہ ممکن نہ تھا کہ میں ان تکلیفوں سے کترا کر یا نظر بچا کے گزر سکوں۔
میری زندگی میں رونما ہونے والا وہ پہلا واقعہ یا سانحہ جہاں سے میری ہنستی کھیلتی زندگی سنجیدگی کے مدار میں داخل ہوئی۔
دوستو میرے والد انتہائی شفیق انسان تھے بہت محبت کرنے والے، دوسروں کے لیئے درد دل بھی رکھتے تھے اور کشادہ دل بھی تھے لوگوں پر خرچ کرنا میرے والد کو بہت پسند تھا۔ ہر باپ اپنی اولاد سے پیار کرتا ہے تو ظاہر ہے میرے والد بھی اپنی اولاد سے بہت پیار کرتے تھے احساس کرتے تھے اور یہ احساس اُن کے دل میں دوسروں کی اولاد کے لیئے بھی تھا۔
آج بھی جب میں اپنے بچپن میں جھانکتا ہوں تو اُس منظر کو دیکھتا ہوں کہ جب میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اپنے والد کے پاس جاتا تھا اور پیسے طلب کرتا تھا تو میرے والد صاحب میرے ساتھ ساتھ میرے دوستوں کو بھی پیسے دیتے تھے۔
ایک مرتبہ میرے کزن کے پاﺅں کے انگوٹھے میں سوئی چبھ گئی تھی۔میرے والد نے اُس کے والد سے کہا کہ اسے ہسپتال لے جاﺅ دراصل میرے والد کو اندیشہ تھا کہ سوئی انگوٹھے کے اندر ہی ہے۔لیکن میرے کزن کے والد نے کوئی توجہ نہیں دی یہ بات میرے والد کو پریشان کررہی تھی کہ اگر سوئی انگوٹھے کے اندر ہی ہے تو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ آخر میرے والد میرے کزن کو لے کر خود ہی ہسپتال چلے گئے، جب میرے والد نے اُس کے انگوٹھے کا ایکسرے کروایا اُن کاشبہ حقیقت میں بدل گیا۔میرے کزن کے انگوٹھے میں سوئی موجود تھی جسے ایک چھوٹی سرجری کے بعد نکال دیا گیا۔ اس کے بعد میرے والد کو اطمینان حاصل ہوا۔ میرے والد اخلاقیات اور انسانیت کا پیکر تھے۔
زندگی اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ اپنے تمام رنگوں کے ساتھ اُن کی شفقت کے سائے میں رواں دواں تھی۔میں بچپن کی دہلیز پار کرکے لڑکپن میں داخل ہوچکا تھا۔نہ کوئی فکر نہ پریشانی،زندگی اپنی تمام مستیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔
اور پھر۔

0 Comments
If you have any doubts please let me know